Sunday, December 8, 2019

گیس کی بو پھیلی ہوئی محسوس کی

ایک جوڑا ریسٹورنٹ سے نِصف شب گھر پُہنچا تو گیس کی بُو پھیلی ھوئی محسوس کی ، میاں باورچی خانے میں گیا جہاں زیادہ بُو کا احساس ھوا ، لاشعوری طور پر اُس کا ھاتھ لائٹ کے بٹن پر گیا جِسے دباتے ھی ایک زوردار دھماکہ ھو گیا ، وہ شخص موقع پر ھی جاں بحق ھو گیا جبکہ اسپتال میں زیرِ علاج اُسکی بیوی کی حالت اِنتہائی تشویشناک بتائی جاتی ھے ، گھریلو فرنیچر اور دیگر اشیاء دو سو میٹر تک بکھری پڑی تھیں جو یہ بتا رھی تھیں کہ دھماکہ کسی بم جیسا طاقتور تھااِس المناک حادثے سے ھمیں یہ سبق مِلتا ھے کہ جب گیس کی بُو کا احساس ھو فورا لیکن آرام سے کھڑکیاں دروازے کھول دیں ، ماچس کی تِیلی یا لائٹر مطلق نہ جلائیں اور نہ ایگزاسٹ فین چلائیں ، ریفریجریٹر کا دروازہ بھی تب تک ھرگز نہ کھولیں جب تک گیس کی بُو غائب نہ ھو جائےاز راہِ کرم اِن ھدایات کو صرف اپنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ دوسروں کو بھی آگاہ کریں ، اللہ تعالیٰ آپکو اِسکا اجر عطاء کرے گا ، اِن شاءاللہ.
صرف آپ ہی پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں بلکہ اوروں کو بھی شریک کریں, یہ صدقہ جاریہ ہوگا۔

جانوروں کے پالنے کا اصول

5 اصول ہیں اگر آپ ان پے  عمل کر لیں اور جانور کو یہ حقوق دے دیں تو میں آپ سے چیلنج کرتا ہوں کے کے آپ کو ڈیری کے کاروبار میں کبھی نقصان نہیں ہو گا

 میں سفائر ڈیری پے جب تھا تو اس فارم کے 2 حصے تھے فارم 1 اور فارم 2  لگ بھگ 5000 ہزار جانورتھے ۔
میری زمہ داری  فارم 2 پے تھی فارم 2 پے سارے ہائی ملکنگ جانور تھے جو کے 50 لیٹر سے اپر تک جاتے تھے میرے ذمے میں جو کام تھے ان میں نیچے دیے  گے 5 اصول ان پے عمل کروانا تھے اگر دودھ کی کمی ہوتی تو میں جواب دہ تھا ساڑو اور لنگڑا پن کا میں جواب دہ تھا TMR میں اگر خرابی ہوتی تو مجھ سے پوچھا جاتا کے یہ کیوں آپ نے  ڈلوایا میں صرف علاج نہیں کرتا تھا باقی ہر چیز کو دیکھنا میری ذمہ داری تھی  اس لیے میں سارا دن جانوروں کے اندر گھومتا رہتا ایک ایک چیز کو دیکھتا ہر چھوٹی چیز پے بھی غور کرتا ڈیلی گوبر کو ہاتھ سے چیک کرتا۔ گوبر سے  آپ اپنے فارم  نیوٹریشن   کو کراس چیک  کر سکتے ہیں ۔بتانے کا مقصد یہ ہے کے جو باتیں آپ سے شیر کرنے جا رہا ہوں یہ میرا ذاتی  تجربہ ہے

پہلا اصول
1 .Freedom from Hunger and Thirst
جانور کا سب سے پہلا حق کھلا پانی اور 24 گھنٹے خوراک کا سامنے ہونا ہے ہم 5 دفع خوراک ڈالتے تھے رات کو ایک بجے بھی اگر خوراک ختم ہو گئی ہو تو ہم اسی وقت ڈالتے تھے اور میں رات کو بھی چکر مارتا تھا بہت سے جانور رات کو بھی کھا رہے ہوتے تھے کوئی وقت ایسا نہیں دیکھا کے  فیڈ ٹیبل مکمل خالی ہو ۔ کچھ جانور رات کو زیادہ کھاتیں ہیں اور اگر رات کو سارے جانور لیٹے ہوں اور کچھ کھا رہے ہوں تو یہ بھی ممکن ہے کے وہ  جانور کمزور ہے بیمار ہے وہ  اس وقت کا انتظار کرتے ہیں  جب ان کو پتہ ہو کے اب کوئی جانور مارے گا نہیں کوئی جگہہ سے ہٹاے گا نہیں۔ 3-4 سوے والے جانور پہلے سوے والی گاۓ کو ساتھ کھانے نہیں دیتی تھی اسی لیے ہمیشہ پہلا سوے والے جانوروں کا الگ گروپ بنانا چاہیے۔ میں اکثر سافٹ ویئر پے جب دیکھتا کے آج کس جانور نے دودھ کم دیا ہے اکثر ایسا ہوتا ایک دن پہلے جانور نے 50 لیٹر دودھ دیا اگلے دن اس نے 20 لیٹر جب جانور کو  دیکھا تو کوئی مسلہ نہیں بیمار بھی نہیں ہے وجہہ یہ کے غلطی سے چوای کرنے کے وو جانور اپنے گروپ کی بجاۓ کسی اور بڑی گاۓ والے گروپ میں چلی گئی اور وہاں اس کو کھانے نہیں دیا گیا جب اس کو واپس اپنے گروپ میں چھوڑا تو اس کا دودھ ٹھیک ہو گیا وجہہ یہی ہے کے جب کوئی بچا بڑے لوگوں کی محفل میں بیٹھ جاۓ تو وہ ڈر کے مارے سہمہ رہتا ہے اس لیے یہ ضروری ہے کے خوراک اور پانی کا ہر وقت موجود ہونا جانور کے لیے بہت ضروری ہے اس کا جب دل کرے وہ  کھا لے اور پی لے
پانی کی چھوٹی سی مثال دیتا ہوں سفائر ڈیری پے اگر 2 دن پانی کی کھرلی صاف نا ہو تو تیسرے دن ساڑو کےکیسز آنا شروع  ہو جاتے تھے تھے

دوسرا اصول

 2 .Freedom from Discomfort
جانور کو آرام دہ ماحول دینا
اگر آپ چاھتے ہیں کے آپ کا جانور دودھ ٹھیک دے بیمار نا ہو تو اس اصول پے خاص خیال رکھیں۔ جانور اگر 8 گھنٹے آرام نہیں کرتا  سکون سے جگالی نہیں کرتا تو اس کا سیدھا اثر آپ کو دودھ کی کمی سارو اور دیگر بیماریوں کی صورت میں ملے گا
آرام دہ ماحول میں سب سے پہلی چیز شیڈ کا درجہ حرارّت ہے شیڈ بند نا ہو ہوا کا گزر اچھی طرح ہو ۔15-30 ڈگری تک اندرونی درجہ حرات رہے تو جانوروں کو کوئی مسلہ نہیں ۔اگر گرمی ہے تو آپ کے جانور کھڑے رهتے ہیں سکوں سے بیٹھے گے نہیں جگالی نہیں کرتے میدہ خراب ہونا شروع ہو جاتا ہے لنگڑا پن کے کیسز انے شروع ہو جاتے ہیں سارو کے چانس بڑھ جاتے ہیں جانور کم وقت لیٹتا ہے دوپہر 2-3 بجی تک ہماری ریسٹ ہوتی تھی ریسٹ کٹ بعد جیسے he شیڈوں کے اندر جاتے تھے تو سارے جانور فیڈ ٹیبل پے آ کے کھڑے ہوتے تھے دور سے لگ رہا ہوتا تھا کے 600 کا 600 جانور کھا رہا ہے لیکن نزدیق آ کے پتہ لگتا کے وہ سرف کھڑے ہیں کیو کے فیڈ ٹیبل والی جگہہ ٹھنڈی ہوتی تھی اس جگہہ کی نسبت جہاں وہ آرام کرتے تھے جن کو ہم cubicles کہتے ہیں
 بیڈنگ والی جگہہ جہاں پے جانور جا کے آرام کرتے ہیں یا بیٹھتے ہیں اس جگہہ کا آرام دہ ہونا بہت ضروری ہم ہر ہفتے ریت ڈالتے تھے ایک ایک فٹ بیٹھنے والی جگہہ پر یقین جانیے جس دن ہم نئی ریت ڈالتے تھے اگلے دن  آدھا سے ایک کلو فی جانور دودھ بڑھا جاتا تھا اگلے کچھ دن سارو بہت کم ہو جاتا تھا وجہہ یہی کے جانور ریت کو پسند کرتا ہے دنیا میں سب سے اچھی بڈنگ ریت ہے میں نے جتنے بھی فارم وزٹ کے ایک ایک فٹ کے گڑھے بنے ہوتے ہیں  اندر گوبر پیشاب کی وجہہ سے کیتچر بنا ہوتا ہے جانوروں کے گھٹنے سوجے ہووے ہوتے ہیں اس جانور نے کیا دودھ دینا ہے جس کو آرام کے لیے نیچے سخت جگہہ ملے۔ یہ میرا تجربہ ہے جانور نرم اور صاف جگہہ کو پسند کرتا ہے اور خوشی سے مستیاں بھی کرتا ہے ۔  اس لیے میرے بھائیوں آرام دہ جگہہ اور ماحول ضروری ہے اس کو چیک کرنا ہو تو دیکھیں کے آپ نے تازہ خوراک ڈالی گھنٹے بعد جانوروں ko دیکھیں کیا لیٹ کے جگالی کر رہے ہیں اس کا مطلب ہے کے جانور سکوں میں ہیں اگر آدھے لیٹے ادھے کھڑے ہیں مطلب آپ کی جگہہ صاف نہیں آرام دہ نہیں اگرسارے کھڑے ہیں تو پھرکوئی سیریس مسلہ ہے اس کو حل کریں فورن
کارپوریٹ میگا ڈیری فارم میں اپس میں بڑا مقابلہ چلتا رہتا ہے دودھ کی ایوریج کا اور دودھ اس وقت جانور دیتا ہے جب وہ  زیادہ کھاے سب زیدہ ہمارا فوکس ہوتا تھا کے کسی طریقے سے جانور کو کھلاتے رہیں یا جانورکھاتا رہے اسی مقابلے میں ایک دفع میرے فارم مینیجر حسام منیر جو کے مصری تھے پاکستان میں  سے کامیاب فارم مینیجر ہیں  انہوں مجھے کہا کے جب بھی خوراک کی گاڑی اے شیڈ میں آپ نے سب جانوروں کو اٹھا دینا ہے تا کے وہ فیڈ ٹیبل پے آ کے خوراک کھائیں میں نے کہا سر یہ چیز جانوروں کو ڈسٹرب کرے گئی اور دودھ کم ہو گا انہوں نے کہا نہیں تم نے لیبر سے کروانا ہے میں نے کہاٹھیک ہے اب 1200 گاۓ کھڑی تھی 2 شیڈ میں جب سارا دن یہی کام لیبر ٹھڈے مار مار کے اٹھاتی رہی ایک جانور جو سکوں سے جگالی کر رہا ہو وہ کیسے اٹھے گا نتیجہ یہ نکلا کے اگلے دن دودھ زیادہ ہونےکی بجاے کم ہو گیا وجہہ یہ تھی
ایک جانورجو آرام سے لیٹا ہو جگالی کر رہا ہو اس کو کبھی تنگ نا کریں نا اٹھیں جانور آپ کے ٹھڈے سے اٹھ تو جاۓگا لیکن پھر تھوڑی دیر کے بعد وہ بیٹھ جاۓ گا نقصان ye ہوا کے اس اٹھنے اور بیٹھنے میں جانور کی  طاقت  ضایع ہوئی جانورڈسٹرب ہوا اور دودھ کم ہو گیا اس لیے تیل تمباکو جو کچھ بھی دینا ہو اس وقت کبھی بھی نا دیں جب جانور آرام کر رہے ہوں جگالی کر رہےہوں

تیسرا اصول

 Freedom from Pain, Injury or Disease
درد بیماری چوٹ سے آزادی
درد ایسی چیز hay جس کو ہوتا ہے وہی بتا سکتا ہے ہم بول کے بتا دیں گے جانور بیچارہ دودھ کی کمی کی صورت میں بتا دے گا روزانہ میں کم دودھ والی گاۓ کے nنمبر نکل کر لاتا تھا اور 70% لنگڑے پن والی ہوتی تھی جو درد ki وجہہ سے نا کھاتی تھی نا پیتی  تھی اور دودھ 50 لیٹر سے 10 لیٹر تک آجاتا تھا انکا باقی 30 فیصد بخار ساڑو والی ہوتی تھی ۔ اس لیے جانور کو بیماری سے بچانا ضروری ہے اکثر رسی اور لوہے کی چیزیں زخم کر دیتی ہیں جو نظر نہیں آتا لیکن دودھ کم کر جاتے ہیں آہستہ آہستہ ۔

چوتھا اصول

4. Freedom to Express Normal Behavior
آزادی جذبات

یہ اصول بھی بہت اہم ہے اس کا مطلب ہے جانوروں کو رہنے کے لیے کھلی جگہہ دیں رش نا بنائیں پنڈی  میں ایک شخص کا فارم تھا کہنہ کھنہ پل والی بارہ کالونی میں یہاں پر لوگوں نے گھروں کے اندر کمروں میں جانور بندھے ہوۓ ہوتے ہیں ۔اس بندے نے فارم کو کھنہ پل سے سنگجانی ایریا میں متقل کر دیا میں اس کےجانوروں کے دودھ کا ریکارڈ چیک کر رہا تھا کاپی میں  دودھ تھا کسی کا 8 لٹر کسی کا 10 لیٹر اچانک سے دودھ 14 کلو 15 کلو پے چلا گیا مینے نے پوچھا بھائی جان پہلے 15 دن دودھ کم تھا اچانک دودھ اتنا کیسے بڑھ گیا اس نے کہا پہلے 15 دن کھنہ پل میں جانور رکھے جہاں جگہہ کم اور جانور زیادہ تھے جانور اکثر بیمار رهتے تھے (اگر شیڈ میں جانور زیادہ ہوں گے تو امونیا گیس بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے جو جانور کو بیمار کرتی ہے ) جب سے میں نے اس جگہہ شفٹ کیے  جانور دودھ بڑھا گے وجہہ یہ  تھی
پہلی جگہہ پر جانور بندھے تھے نئی جگہہ پر جانوروں کو کھلا چھوڑ دیا گیا
پانی کھلا تھا شیڈ ہوا دار اور کافی بڑا تھا جانور بڑی آزادی کےساتھ گھوم پھر رہے تھے

خوراک کو تبدیل نہیں کیا صرف ماحول کو تبدیل کیا اور اتنا فرق آگیا

پانچواں اصول

 Freedom from Fear and Distress
ڈر اور خوف سے آزادی
ہمارے فارم پے لیبر  کو سختی سے منع  کیا گیا تھا کے جانور کو مارنا نہیں خاص کر کے چوئی کے وقت لے کے جاتے ہوۓ کیوں کے چوائ کے وقت ذرا سا خوف بھی جانور کے oxytocin  ہارمون کے اخراج کو روک دیتا ہے یا کم کر دیتا ہے جس سےجانور دودھ کم کر دیتا تھا فورن اور سارو کا مسلہ بھی آسکتا ہے بعد میں
آپ یقین نہیں کریں گے گے بجلی کی کرک اور بادلوں کے گرجنے کی آواز  سے ہمارے جانور اگلی چوئی میں دودھ کم کر دیتے تھے۔ ہمارے فارم پر کچھ ارسا ویلڈنگ اور گرینڈنگ کا کام ہوتا رہا اب جس شیڈ میں  کام ہوتا رہا وہاں اتنا شور رہتا تھا جس کی وجہہ سے اتنے دن جانور پوری تارہ دودھ پے نہیں اے
اس لیے شور اور مار پیٹ سے جانوروں کو بچا کے رکھیں شیڈ ایسی جگہہ بناے جہاں آس پاس کوئی فیکٹری ورکشاپ نا ہو
اس ویڈیو کو غور سے دیکھیں جانور بہت زیادہ آرام دہ ماحول میں ہیں جس کی وجھہ سے سارے جانور بیٹھ کر جگالی کر رہیں ہیں ہر چیز پرفیکٹ ہے

میرے بھائیوں یہ وہ باتیں ہیں جن کے پیچھے سالوں  محنت اور لگن شامل ہے میرا مقصد اس ڈیری فارمنگ کو بلندی پر لے جانا اور میری خوائش ہے کے وہ  دن آیئں جب لوگ ڈیری  کے کاروبار میں فخرمحسوس کریں اگر آپ میرا ساتھ دیں تو ہم سب مل کے اس کو اگے لے کے چلتےہیں

میں اس تحریر کے ذریعے 3 بندوں کا  خاص طور پر شکر گزآر ہوں جن سے میں نے بہت کچھ سیکھا جنہوں نے مجھے انگلی پکڑ کر سکھایا میرے استاد محترم پروفیسر سید حسن رضا بخاری صاھب   ڈاکٹر  اسد گل صاھب  نیوٹریشن مینیجر سفائر ڈیری اور ڈاکٹر نعمان راجہ سینئر ویٹرنری ڈاکٹر سفائر ڈیری

Thursday, December 5, 2019

Murghio Ke breeding

اسلام وعلیکم دوستوں 
بریڈنگ کے حوالے سے رہنمائی 
 کچھ لوگ پریشان ہیں کہ جب وہ مرغی بٹھاتے ہیں تو ٣ یا ٤ بچے نکلتے ہیں باقی سارے انڈے خراب ہو جاتے ہیں ان کیلئے رہنمائی 
١:- سب سے پہلے اس چیز کا خیال رکھا جایے کو جو جوڑا لگانا ہے اس نر اور مادی کا دم کا کوئی پر ٹوٹا ہوا نہ ہو کیوں کہ اگر مادی کا پر ٹوٹا ہو گا تو وہ نر کو تکلیف دے گا اور زخم کر سکتا اور اگر نر کا ہوا تو وہ مادی کو اور اس وجہ سے مرغا صحیح طریقے سے کراس نہیں کر سکے گا اور انڈے خالی رہیں گے اس لیے جوڑا لگاتے وقت وہ ٹوٹے ہے پر نکل دیں
٢:- کچھ لوگ جس جگہ مادی انڈے دیتی ہے وہاں سے اٹھاتے نہیں کہ جب سارے انڈے دے گی تو اسی جگہ خود ہی انڈوں پر بیٹھ جایے گی لیکن یہ طریقہ بھی غلط ہے کیوں کہ جب مادی انڈا دینے کیلئے بیٹھتی ہے تو پہلے پڑے انڈوں کو بھی ہیٹ ملتی ہے اور جب اٹھتی ہے تو ان انڈوں کو ہوا لگ جاتی ہے جس کی وجہ سے انڈے کی چھلکے کے اندر والا باریک پردہ خشک ہو جاتا ہے اور انڈے میں بچہ نہیں بنتا 
٣:- کچھ مادیوں کی دم میں گنڈہ جوڑ پر کیل ہوتا ہے اگر اس میں چربی بن جایے تو کراس کے دوران مرغی اپنی دم اٹھاتی نہیں اور مرغے کا پانی زمین پر گر جاتا ہے اور انڈے فرٹایل نہیں ہوتے اس لیے اس کیل کو کاٹ کر اچھی طرح نچوڑ کے چربی نکال دیں اور صاف کر کے ہلدی اور سرسوں کا تیل مکس کر کے صبح شام لگائیں انشااللہ زخم ٹھیک ہو جایے گا پھر پورا کراس ہو گا 
٤:- کچھ لوگ مرغی کو انڈوں پر بیٹھا کر یہ سوچتے ہیں کہ جب بھوک اور پیاس ہو گی تو خود ہی اٹھ جایے گی یہ سوچ اور طریقہ بلکل غلط ہے کیوں کہ اگر مادی انڈوں پر بیٹھ مر دے گی تو جس جس انڈے پر پانی لگے گا ان میں بچے نہیں بنیں گے روز شام کو مرغی کو اٹھا کے دانا پانی دیں کھا پی کے بیٹھ مارنے تک پھرنے دیں اس کے بعد اسے دوبارہ انڈوں پر بیٹھا دیں 
٥:- گرمیوں میں انڈے ہمیشہ فریج کے سبزی والے خانے میں نیچے کپڑا رکھ کر انڈے رکھیں اور اوپر ایک اور کپڑا رکھ دیں مادی بٹھانے سے ایک گھنٹہ پہلے فریج سے باہر نکال کے رکھ دیں بھوسے یا پھر ٣ نمبر لکڑی کے برے پر مادی اس طرح بیٹھایں کہ مادی کے نیچے سارے انڈے چھپ جائیں اور کوئی انڈا نظر نہ آیے 
٦:- ہمیشہ بریڈر جوڑے کو مکس دانا دیں کیوں کہ اس موسم میں ہر جانور کے منہ کا ذائقہ خراب ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ ایک ہی خوراک نہیں کھاتے اور کم خوراک کھانے کی وجہ سے جانور کمزور ہو جاتا جس کی وجہ سے بچے نہیں نکلتے اگر ہو سکے تو مرغا کو روز ١٠ دانے بادام کے صبح کو بھگو دیں اور شام کو چھلکا اتار کے کھلا دیں 
اگر آپ ہماری پوسٹ پر عمل کریں گے تو انشاللّہ آپ کی بہت اچھی بریڈ ہو گی 
نوٹ:- یہ پوسٹ اپنے دوستوں کو بھی ٹیگ کریں اور سارے گروپس میں بھی شئیر کریں تا کہ سب دوستوں کا بھلا ہو جایے 
باقی ہمیں دعاوں میں ضرور یاد رکھئے گا.
ملک نعمان ناصر
                                                   

جانوروں کی کھرلی کی معلومات

             اسلام وعلیکم
بھت دوست جانوروں کی کھرلی کا سائز پوچھتے ہیں
اج سنگل ایک طرف جانوروں والی کھرلی کا سائز حاضر ھے
اس سائیز پر تقریباً ھر قد کا جانور اسانی سے چارہ کھا سکتا ہے
🐃🐄🐂🐃🐄🐂🐃🐄🐂🐃🐄🐂🐃
زمین سے اونچائی۔۔30 انچ
چوڑائی اندر اندر۔۔2 فٹ
گہرائی۔۔1 فٹ
نوٹ۔۔لمبائی اپنے جانوروں کے حساب سے رکھیں
ایک جانور کیلۓ 5 فٹ جگہ چاھۓ                                     


Thursday, October 5, 2017

اللہ تعالی نے کن لوگوں پر جہنم کی آگ حرام قرار دی ہے



کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے کن لوگوں پر جہنم کی آگ حرام قرار دی ہے اللہ تعالی جو قہار ہے اس نے اپنے جلال کے ثبوت کے لۓ جہنم بنائی ہے جس میں آگ کے الاؤ گناہ گاروں کی سزا کے لۓ جلاۓ گۓ ہیں جس کی تپش دنیا کی آگ سے ہزارہا گنا زیادہ ہو گی۔جہنم کا ایک دن دنیا کے سیکڑوں دنوں سے زیادہ طویل ہو گا اور اس آگ کا ایندھن وہ لوگ بنیں گے جنہوں نے دنیا کی زندگی اللہ پاک کی نافرمانی میں گزاری۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اللہ رحیم و کریم بھی ہےاس نے اپنے بندوں کے چھوٹے چھوٹے اعمال پر ان کی جہنم کی آگ معاف کردینے کا وعدہ بھی فرمایا ہے ۔آج ہم آپ کو ان ہی اعمال کے متعلق بتائیں گے جن کے کرنے سے جہنم کی آگ انسان کو چھو بھی نہیں پاۓ گی سیدنا معاذرضی اللہ عنہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ کے ہمراہ آپ کی سواری پر آپ کے پیچھے سوار تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے معاذ رضی اللہ عنہ، انہوں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ وسعدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے معاذ انہوں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسعدیک تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی اپنے سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ سوا اللہ کے کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے.رسول ہیں اللہ اس پر دوزخ کی آگ حرام کر دیتا ہے۔ صحیح بخاری کتاب العلم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرے اور اس کی مقرره حدوں سے آگے نکلے اسے وه جہنم میں ڈال دے گا جس میں وه ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔ سورۃ النسا 13،14 حسن اخلاق سے پیش آنا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کیا میں تم لوگوں کو ایسے شخص کے متعلق نہ بتاؤں جس پر دوزخ کی آگ حرام اور وہ آگ پر حرام ہے؟یہ وہ شخص ہے جو نرم مزاج اور لوگوں کے قریب ہے اور ان کے لئے سہولت اور آسانی پیدا کرتا ہے۔ اللہ کے خوف سے رونا اور جہاد کا غبار سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص خوف اللہ کی وجہ سے رویا وہ اس وقت تک دوزخ میں نہیں جائے گا یہاں تک کہ دودھ پستان میں واپس ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ ظہر سے پہلے چار اور بعد میں چار رکعات پر ہمیشگی اختیار کرناام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سُنا.کہ جو شخص ظہر سے پہلے چار اور بعد میں چار رکعتوں کو ہمیشہ پڑھےاسے اللہ تعالٰی جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا ۔ فجر اور عصر کی نماز سیدنا عمارة بن رؤيبة رضي الله عنه کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو سورج طلوع اور غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھتا ہے جہنم کی آگ اسے چھو بھی نہیں سکے گی یعنی فجر اور عصر کی نماز۔ اللہ انسان کو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے وہ رحیم و کریم ہے اس نے انسان کے لۓ جنت کا راستہ آسان اور جہنم کا راستہ مشکل بنایا ہے ۔ جہنم کے راستے پر جگہ جگہ اس نے توبہ و استغفغار کی گنجائش رکھی ہے جس سے انسان کسی وقت بھی فائدہ اٹھا کر راستہ بدل کر جنت کی جانب روانہ ہو سکتا ہے ۔ یہ مہلت انسان کو زندگی کی آخری سانسوں تک حاصل ہے اس سے فائدہ اٹھائیں اور جہنم کی آگ سے نجات حاصل کریں ۔

Monday, September 11, 2017

Leopard Gecko


کل محترم عزیزم صابر مری نے اور آج عزیزم  حاکم بزدار نے ((کھنڑ )) کے متعلق ایک پوسٹ کیا صابر مری کا پوسٹ قدرے تفصیلی تھا پھر بھی تشنگی باقی رہی خیال آیا کہ کچھ تفصیل سے لکھوں ۔
یہ طے شدہ بات ہے کہ ضرب المثل کو لوگ عالمگیر صداقت کہتے ہیں۔جو افراد نہیں معاشروں اور قوموں کے صدیوں کے تجربات اور شواہد کا نتیجہ ہوتا ہے۔
چونکہ بات ہورہی ہے کھنڑ کی تو اس چھپکلی نما جاندار کے متعلق ایک ضرب المثل موجود ہے صدیوں سے وہ یہ ہے
جیںنکوں لڑیا کھنڑ اونکوں ما نہ ڈٹھا جنڑ

اس کا تذکرہ عزیزم صابر نے بھی کیا ۔مگر باتوں باتوں میں کچھ یوں لگا کہ وہ اسکو رد کرگئے۔
پہلے تو اس جانور کے متعلق کچھ معلومات پھر اس کے زہر کے متعلق کچھ باتیں
کھنڑ یہ نام بلوچی اور سرائیکی دونوں میں مستعمل ہے میں وثوق سے تو نہیں کہتا البتہ گمان یہ ہے کہ سرائیکی چونکہ بلوچی کے برعکس اردو کی طرح ایک لشکری زبان یا لہجہ ہے تو اسکی اکثر اصطلاحات مستعار ہیں۔
تو گنجائش ہے کہ میں کہوں سرائیکی نے  کسی زبان سے مستعار لیا۔
مگر شاید بلوچی سے نہ لیا ہو چونکہ اس میں جن  حروف کے جوڑ سے اسے بنایا گیا لگتا ہے  کسی مقامی زبان کا لفظ ہو گا
چونکہ کچھ بعید نہیں کہ بلوچی نے بھی مستعار لیا ہو چونکہ بلوچ جب شام سے ہجرت کرتے ہوئے یہاں آئے اور انکو یہ جاندار  یہاں جب پہلی بار نظر آیا تو مقامی لوگوں سے پوچھا ہوگا اسکو تم کیا کہتے ہو۔
یہ ایک رائے ہے۔
اسکو انگریزی میں
 Leopard Gecko  
کچھ اور مغربی زبانوں میں jeco اور tuko بھی کہا جاتا ہے۔

 علمی نام leopard  Gekko gecko
عربی میں اسکو ، ابو بریص،فارسی میں مارمولک ، کہا جاتا ہے  
 بارانی  علاقوں میں درختوں تختوں اور سوراخوں میں رہتا ہے۔ اکثر رات کو نکلتا ہے اور جہاں پانی کھڑا ہو وہاں اپنے رہائشی سوراخوں سے ٹیلوں پہ نکل آتے ہیں اور ان سے سب زیادہ خطرہ رات کو پانی لگانے والے کسانوں کو ہوتا ہے ۔کیونکہ اسکو تیرنا  بھی آتا ہے۔یہ جاندار  شمال مشرقی هند و بنگلادیش،  جنوب مشرقی ایشیاء اور ملائیشیا میں پایا جاتا ہے۔

کھنڑ یا  مارمولک 15 سنٹی میٹر سے 35 سنٹی میٹر کی لمبائی میں پائے جاتے ہین۔ اسکی شکل سفید چتکبری  ہے اور جسم پہ برصی رنگ کے دھبے ہوتے ہیں شاید عربی اسکو اس لیئے ابو بریص کہتے ہوں۔
علاقے کی نوعیت اور موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے اسکے رنگ مختلف بھی ہوتے ہیں۔
اس کے کھر درے جسم سے ایک ایسی رطوبت خارج ہوتی ہے اگر انسان کے جسم پہ لگ جائے اور جذب ہوجائے تو یقینا موت واقع ہوگی ۔
اس لیے بلوچ کہتے ہیں کہ اگر آدمی پہلے پانی میں گھس جائے تو کھنڑ مر جائے اگر کھنڑ پہلے گھس جائے تو آدمی مر جائے گا ۔
مطلب یہ ہے جذب ہونے سے پہلے دھوکا جائے ۔
کچھ عرصے سے اسکے خرید وفروخت کی باتیں بھی سنی ہیں ۔شاید کسی دوائ میں استعمال ہوتا ہے۔
بہرحال ایک زہریلا جانور ہے اور اسکا دم جلدی ٹوٹ کے گر جاتا ہے۔
یہ کہیں کہیں گھروں میں بھی پایا جاتا ہے
مگر جو ہمیشہ نمی والی جگہ پہ رہتے ہیں وہ لڑاکا نہیں۔
اور جو اچانک پانی یا بارش سے باہر نکل آئیں وہ خطرناک ہیں۔
گھریلو کھنڑ کے متعلق تو میرا اپنا تجربہ ہے۔
اور جنگلی کے متعلق کافی سارے زمینداروں نے بتایا تھا۔
پڑھیں اور شیئر کریں اضافی معلومات سے مطلع کریں۔
زوراخ بزدار