گوادر پاکستان کا حصہ کیسے بنا — ایک تاریخی داستان
گوادر کی کہانی میں ایک ایسی شخصیت کا ذکر ملتا ہے جسے پاکستان میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ یہ ایک ایسی خاتون تھیں جنہوں نے پاکستان سے اپنی محبت اور قربانی کے جذبے کے تحت گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
گوادر، جس کا نام بلوچی کے دو الفاظ "گوات" یعنی کھلی ہوا اور "در" یعنی دروازہ سے مل کر بنا ہے، ایک اہم ساحلی خطہ ہے۔ اس علاقے کا رقبہ تقریباً 2,400 مربع میل یعنی 15 لاکھ ایکڑ سے زیادہ بتایا جاتا ہے۔
گوادر کی ابتدائی تاریخ
تحریر کے مطابق گوادر ریاست 18ویں صدی میں قلات کے خان میر نصیر نوری بلوچ کی ملکیت تھی۔ تاہم خانِ قلات کے لیے اس علاقے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا مشکل ہو رہا تھا، کیونکہ گچکی قبائل بغاوت کر رہے تھے۔ ان قبائل کا ماضی میں بھی اس علاقے پر اقتدار رہا تھا اور وہ اسے دوبارہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔
امن قائم رکھنے کے لیے خانِ قلات نے ایک معاہدے کے تحت علاقے کا انتظام گچکی قبائل کے حوالے کیا۔ معاہدے کے مطابق گوادر خانِ قلات کی جاگیر میں رہتا، اس کی آمدنی کا نصف خان صاحب کو دیا جاتا، جبکہ انتظامی معاملات گچکی قبائل کے پاس رہتے۔
1783 میں عمان سے تعلق
1783ء میں عمان کے حکمران اپنے بھائی سے شکست کے بعد جلاوطن ہوئے اور انہوں نے خانِ قلات سے پناہ مانگی۔ ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے گوادر کا علاقہ، جو تقریباً 2,400 مربع میل پر مشتمل تھا، ایک نئے معاہدے کے تحت سلطانِ عمان کے حوالے کیا گیا۔
اس معاہدے کے مطابق گوادر بنیادی طور پر خانِ قلات سے وابستہ رہنا تھا، جبکہ اس کا انتظام گچکی سرداروں کے پاس رہنا تھا۔ خانِ قلات کو ملنے والی آمدنی کا نصف سلطانِ عمان کو دیا جانا تھا۔ تحریر کے مطابق یہ انتظام اس وقت تک کے لیے تھا جب تک سلطان کو اس پناہ گاہ کی ضرورت رہتی۔
بعد میں عمان کے سلطان دوبارہ اپنے تخت پر واپس آ گئے، لیکن گوادر ان کے قبضے میں ہی رہا۔
کچھ عرصے بعد خانِ قلات کے ورثا نے گوادر کی واپسی کا مطالبہ کیا، لیکن عمان کی حکومت نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ اس معاملے پر اختلاف بڑھتا گیا اور بالآخر برطانوی حکومت نے بھی اس تنازعے میں مداخلت کی۔
برطانوی دور
برطانوی انتظامیہ نے گوادر کے معاملے میں ثالثی کی کوشش کی۔ اس دوران مختلف تاریخی دعوے اور دستاویزات سامنے آئیں، لیکن کسی ایک فریق کے حق میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
تحریر کے مطابق اس دوران گوادر برطانوی کنٹرول میں رہا اور عمان کو گوادر کی آمدنی کا ایک حصہ دیا جاتا رہا۔
پاکستان کے قیام کے بعد گوادر کا معاملہ دوبارہ اہم ہو گیا۔ خانِ قلات نے اپنی ریاست پاکستان کے ساتھ شامل کر دی، جس کے بعد پاکستان کی جانب سے گوادر کے معاملے کو بھی اٹھایا گیا۔
گوادر کی بندرگاہ کی اہمیت
اسی زمانے میں ایک امریکی سروے کمپنی نے گوادر کے ساحل اور بندرگاہ کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی۔ بتایا گیا کہ گوادر کی بندرگاہ بڑے بحری جہازوں کے لیے موزوں ہے اور اس کے ساحلی علاقے میں سمندری وسائل بھی موجود ہیں۔
اس صورتحال نے ایران سمیت دوسرے ممالک کی دلچسپی بھی بڑھا دی۔ ایران کی جانب سے گوادر کو اپنے علاقے میں شامل کرنے اور اسے چابہار کے ساتھ ملانے کی خواہش کا بھی ذکر ملتا ہے۔
ملک فیروز خان نون اور گوادر
1956ء میں ملک فیروز خان نون نے گوادر کے معاملے کو اہمیت دی۔ تحریر کے مطابق انہوں نے تاریخی حقائق اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے کے لیے کوششیں شروع کیں۔
اسی دوران ان کی اہلیہ محترمہ وقارالنساء نون نے بھی برطانیہ میں پاکستان کے مؤقف کے لیے اہم سفارتی اور سیاسی کوششیں کیں۔
انہوں نے تاریخی دستاویزات اور دلائل کی بنیاد پر برطانیہ میں پاکستان کے حق میں لابنگ کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ چونکہ قلات کی ریاست پاکستان کا حصہ بن چکی تھی، اس لیے گوادر پر پاکستان کے حق کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔
تحریر کے مطابق اس معاملے پر تقریباً دو سال تک مذاکرات اور کوششیں جاری رہیں۔
گوادر پاکستان کو مل گیا
ملک فیروز خان نون کے دور میں عمان کے سلطان سعید بن تیمور کے ساتھ مذاکرات ہوئے۔ طویل مذاکرات کے بعد عمان نے گوادر کو پاکستان کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
تحریر کے مطابق گوادر کی منتقلی کے لیے 30 لاکھ پاؤنڈ کی رقم طے ہوئی۔ اس رقم کا بڑا حصہ پرنس کریم آغا خان نے ادا کیا جبکہ باقی رقم پاکستان کی حکومت نے ادا کی۔ بعض روایات میں پوری رقم آغا خان کی جانب سے ادا کیے جانے کا بھی ذکر ملتا ہے۔
آخرکار 8 ستمبر 1958ء کو گوادر پاکستان کا حصہ بن گیا۔
ملک فیروز خان نون نے اپنی خودنوشت "چشم دید" میں اس موقع کو انتہائی خوشی کا لمحہ قرار دیا اور لکھا کہ جب پاکستان کے برطانیہ میں ہائی کمشنر اکرام اللہ نے گوادر کی منتقلی کی دستاویز ان کے حوالے کی تو انہیں بے حد خوشی ہوئی۔
وقارالنساء نون کون تھیں؟
محترمہ وقارالنساء نون، ملک فیروز خان نون کی دوسری اہلیہ تھیں۔ ان کا سابق نام وکٹوریہ ریکھی (Victoria Rekhi) بتایا جاتا ہے۔ وہ آسٹریا میں پیدا ہوئیں اور برطانیہ میں پرورش پائی۔
ملک فیروز خان نون سے ان کی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ برطانیہ میں ہندوستانی حکومت کے ہائی کمشنر تھے۔ بعد میں انہوں نے اسلام قبول کیا اور ملک فیروز خان نون سے شادی کی۔ شادی کے بعد ان کا نام وقارالنساء نون رکھا گیا۔ انہیں محبت سے وکی نون (Wiki Noon) بھی کہا جاتا تھا۔
انہوں نے تحریکِ پاکستان کے دوران خواتین کو منظم کرنے میں حصہ لیا اور برطانوی دور میں سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے گرفتاریوں کا بھی سامنا کیا۔
پاکستان کے لیے سماجی خدمات
قیامِ پاکستان کے بعد وقارالنساء نون نے مہاجرین کی مدد اور فلاحی کاموں میں حصہ لیا۔ وہ APWA کی بانی ارکان میں بھی شمار ہوتی ہیں۔
انہوں نے وقارالنساء گرلز کالج راولپنڈی اور وقارالنساء اسکول ڈھاکہ کے قیام میں بھی کردار ادا کیا اور ریڈ کریسنٹ کے لیے خدمات انجام دیں۔
بعد میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں وہ وزیرِ سیاحت بھی رہیں اور پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے کام کیا۔ پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے قیام اور سیاحت کے فروغ سے متعلق سرگرمیوں کا بھی ان سے تعلق بیان کیا جاتا ہے۔
وکی نون ایجوکیشن فاؤنڈیشن
اپنی بہن کی وفات کے بعد برطانیہ میں ان کے حصے میں آنے والی جائیداد سے انہوں نے وکی نون ایجوکیشن فاؤنڈیشن قائم کی۔
تحریر کے مطابق اس ادارے کے ذریعے مستحق اور باصلاحیت طلبہ کی تعلیم میں مدد کی جاتی ہے، خصوصاً ایسے طلبہ کی جو تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان واپس آ کر ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہوں۔
وفات
محترمہ وقارالنساء نون 16 جنوری 2000ء کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔ ان کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔
تحریر میں انہیں پاکستان سے محبت کرنے والی ایک اہم شخصیت کے طور پر یاد کیا گیا ہے اور گوادر کے پاکستان کا حصہ بننے کی کوششوں میں ان کے کردار کو نمایاں کیا گیا ہے۔
گوادر آج پاکستان کی ایک اہم بندرگاہ اور خطہ ہے، اور اس کی جغرافیائی و معاشی اہمیت کی وجہ سے دنیا بھر میں اس کا ذکر ہوتا ہے۔
وقارالنساء نون کی زندگی میں سیاست، سماجی خدمت، تعلیم، سیاحت اور پاکستان کے لیے مختلف خدمات کا ذکر ملتا ہے۔
No comments:
Post a Comment