Monday, June 7, 2021

Bring these grains from a grocer for only Rs. 5

Bring these grains from a grocer for only Rs. 5. It is my responsibility to get rid of sugar cane. Look at the method. You must have heard about Klonji.  Klonji is used in medicine as well as in food and pickles.  Klonji even adds flavor to food.  It also cures hundreds of diseases.  Blessed is the instruction of the Holy Prophet (sws) to use Klonji. It cures every disease except death.  As much research has been done to date on the benefits of clonage, not all of its benefits have been identified.  Whether it is wisdom or medicine, the use of herbs is considered very useful even in modern times.  Today we are going to tell you a recipe for reducing Klonji which is so useful that your sugar will be controlled.  Allah Almighty is the Healer of all. Know a few things There are some people who do not know whether they have diabetes or not.  These four to five symptoms are very important for them.  What happens to a diabetic patient that he starts to feel more thirsty than usual? He gets thirsty again and again and he uses water, then the diabetic patient starts to grow in his body.  Some people's bodies increase and some decrease. Weakness and hunger are felt again and again.  Weakness This feeling is created, you start feeling restless, you start feeling dizzy, you are tired all the time.  Fatigue is considered to be a very important symptom in a diabetic. The biggest symptom is that whenever a diabetic suffers a wound, it takes a long time to heal.  Bladder complaints also occur. There were some important symptoms that you need to know.  How do you control sugar? First take seven grains of clonji in the palm of your hand, then you should recite Surah Al-Fatihah first and last three times on these grains, then 70 times.  Give  With the blessings of the Holy Qur'an, by the grace of God Almighty, his sugar will be controlled.  The problem of diabetes will be controlled.  People who are worried that our blood is out of control and they have been suffering from this disease all their lives, do this. Inshallah, you will see a difference within a week.  Because the Qur'an is a cure for us.

Saturday, June 5, 2021

بلاگ شروع کرنے کی سب سے عام وجہ پیسہ کمانا تھا

گروتھ بیجر کے ذریعہ کی گئی ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بلاگ شروع کرنے کی سب سے عام وجہ پیسہ کمانا تھا۔  سروے میں شامل تقریبا blog دوتہائی بلاگرز کا کہنا تھا کہ منیٹائزیشن بلاگنگ کے لئے ان کی بنیادی ترغیب تھی۔ پھر ، جب آپ بھی اس پر غور کریں انٹرنیٹ صارفین میں سے 77 regularly بلاگ پوسٹس باقاعدگی سے پڑھتے ہیں
 تحریری مواد سب سے زیادہ مقبول مواد کی شکل ہے
 70٪ اشتہارات کی بجائے بلاگ پوسٹوں سے کمپنیوں کے بارے میں سیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں … یہ واضح ہے کہ بلاگنگ ، جب اچھی طرح سے انجام دی جاتی ہے تو ، نتیجہ خیز پیسہ بنانے والا ثابت ہوسکتا ہے۔  اس کی روشنی میں ، ہم اس بات پر روشنی ڈال رہے ہیں کہ بلاگ کو کس طرح کمایا جائے۔ کسی بلاگ کو رقم کمانے کا طریقہ: کب شروع کریں شاید آپ کے بلاگ کی شروعات ابھی جذبہ پروجیکٹ کے طور پر ہوئی ہے ، اور اب آپ حیران ہیں کہ کیا آپ اس سے پیسہ کمانا شروع کر سکتے ہیں؟  ہوسکتا ہے کہ آپ کے چھوٹے کاروبار یا شروعات میں پہلے سے ہی ایک بلاگ موجود ہو ، اور آپ اسے مستحکم محصول کے دھارے میں تبدیل کرنا چاہتے ہو؟  یا ، ہوسکتا ہے کہ آپ کوئی نیا رخ تلاش کر رہے ہو ، اور آپ اپنا بلاگ شروع سے شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں؟ آپ کی وجوہات کچھ بھی ہوں ، اپنے بلاگ کو منیٹائز کرنے کا ہمیشہ ایک اچھا وقت ہے۔  انتظار کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔  منیٹائزنگ ہونے سے پہلے آپ کو حاصل کرنے کے لئے مطلوبہ صفحہ آراء کا کوئی مقررہ سنگ میل ، وقت ، یا سیٹ تعداد موجود نہیں ہے۔ اس نے کہا ، جب آپ مستحکم ٹریفک تیار کرنا شروع کردیں گے تو آپ کو یہ زیادہ آسان ہوجائے گا۔  آپ کو ہر ماہ سیکڑوں اور ہزاروں زائرین کی ضرورت نہیں ہے ، لیکن اس کے ساتھ کام کرنے کے ل 1،000 1000 کو کافی ہونا چاہئے۔ای میل کی فہرست (ایک چھوٹی سی بھی) رکھنے میں ، یہی بات پیش آتی ہے ، لہذا اگر آپ نے اپنے وزیٹر کے نام اور ای میل پتوں پر قبضہ کرنا شروع نہیں کیا ہے ، تو اب وقت شروع ہوگا۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ اپنے بلاگس سے ایک سال میں $ 50،000 سے زیادہ کما لیتے ہیں وہ ان کے ای میل سبسکرائبرز (کم آمدنی والے بلاگرز کے مقابلے میں) بڑھنے پر دھیان دیتے ہیں۔  لہذا ، پیشہ ور افراد سے برتری حاصل کریں اور ای میل مارکیٹنگ کی طرف اپنی توجہ مبذول کرو۔ کسی بلاگ کو رقم کمانے کا طریقہ: بہترین طریقہ کار اگر آپ مواد کی مارکیٹنگ میں نئے ہیں ، اور بلاگ لانچ کرنے کا یہ آپ کا پہلا موقع ہے تو ، ان بہترین طریقوں کو دھیان میں رکھیں: ایک طاق منتخب کریں اپنے نئے بلاگ کے لئے ایک طاق منتخب کریں اور اس پر قائم رہیں۔  تقریبا تین چوتھائی نواز بلاگرز لوگوں کی ضروریات اور مفادات کے ایک خاص گروپ کو پورا کرنے کے لئے اپنا مواد تیار کرتے ہیں۔  اپنے آپ کو بطور ایک ’’ ماہرِ خصوصی ‘‘ پیش کرنے کے بجائے ، خود کو ایک اتھارٹی کی حیثیت سے قائم کرنا بہت آسان بنا دیتا ہے۔ لوگوں سے آپ سے خریداری کے ل enough کافی اعتماد پیدا کرنے کے ل imp ، ضروری ہے کہ آپ اپنے میدان میں قیمتی مہارت کا مظاہرہ کریں۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ جس چیز کے بارے میں بات کر رہے ہیں اس سے یہ معلوم کر کے ساکھ قائم کرنا ہے۔ جب آپ اپنے طاق کو چننے کے ل. جاتے ہو تو ، آگاہ رہیں کہ کچھ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ منافع بخش ہیں۔  اگر آپ کے بلاگ کا واحد مقصد کل وقتی آمدنی حاصل کرنا ہے ، تو اچھی جگہ ادا کرنے والے طاق کا انتخاب کرنا بلا کہے۔  مثال کے طور پر ، مبہم میوزک انواع کے بارے میں لکھنے میں بہت سارے پیسے ہونے کا امکان نہیں ہے۔  جبکہ کاروباری طریقوں سے متعلق بلاگ کہیں زیادہ منافع بخش ہوسکتا ہے۔مارکیٹ ریسرچ کا انعقاد کریں طاق کا ارتکاب کرنے سے پہلے ، اس کے منافع کا اندازہ لگانے کے لئے کچھ مارکیٹ ریسرچ کریں۔گوگل ٹرینڈس کی طرف جائیں اور طاق سے وابستہ مطلوبہ الفاظ کو پلگ ان کریں۔ تو ، ہم یہ کہتے چلیں کہ آپ فوٹو گرافی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ آپ 'فوٹو گرافی' ، '' بہتر فوٹو کس طرح لیتے ہیں ، '' خریدنے کے لئے بہترین کیمرے ، '' وغیرہ جیسی چیزوں میں ٹائپ کرسکتے ہیں۔گوگل ٹرینڈس کے ذریعہ تیار کردہ گرافس سے زیادہ درست احساس ہوگا کہ کتنےلوگ اس موضوع میں دلچسپی رکھتے ہیں۔  آپ یہ بھی ایک نظر میں دیکھیں گے کہ آیا موضوع مقبولیت میں بڑھ رہا ہے ، گر رہا ہے یا مرتبہ مرتب کررہا ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ، آپ دلچسپی کے عنوانات گرنے سے گریز کرنا چاہیں گے۔  دیکھیں کہ کیا گذشتہ پانچ سالوں میں طاق نے مستقل طور پر اضافہ کیا ہے یا دلچسپی کا مستقل سلسلہ جاری ہے۔  ان عنوانات کا انتخاب کرنے کے لئے سب سے مستحکم طاق ہوتے ہیں۔

WAQARUL NISA NOON HISTORY OF GWADAR CITY Of PAKISTAN

گوادر پاکستان کا حصہ کیسے بنا — ایک تاریخی داستان
گوادر کی کہانی میں ایک ایسی شخصیت کا ذکر ملتا ہے جسے پاکستان میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ یہ ایک ایسی خاتون تھیں جنہوں نے پاکستان سے اپنی محبت اور قربانی کے جذبے کے تحت گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
گوادر، جس کا نام بلوچی کے دو الفاظ "گوات" یعنی کھلی ہوا اور "در" یعنی دروازہ سے مل کر بنا ہے، ایک اہم ساحلی خطہ ہے۔ اس علاقے کا رقبہ تقریباً 2,400 مربع میل یعنی 15 لاکھ ایکڑ سے زیادہ بتایا جاتا ہے۔
گوادر کی ابتدائی تاریخ
تحریر کے مطابق گوادر ریاست 18ویں صدی میں قلات کے خان میر نصیر نوری بلوچ کی ملکیت تھی۔ تاہم خانِ قلات کے لیے اس علاقے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا مشکل ہو رہا تھا، کیونکہ گچکی قبائل بغاوت کر رہے تھے۔ ان قبائل کا ماضی میں بھی اس علاقے پر اقتدار رہا تھا اور وہ اسے دوبارہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔
امن قائم رکھنے کے لیے خانِ قلات نے ایک معاہدے کے تحت علاقے کا انتظام گچکی قبائل کے حوالے کیا۔ معاہدے کے مطابق گوادر خانِ قلات کی جاگیر میں رہتا، اس کی آمدنی کا نصف خان صاحب کو دیا جاتا، جبکہ انتظامی معاملات گچکی قبائل کے پاس رہتے۔
1783 میں عمان سے تعلق
1783ء میں عمان کے حکمران اپنے بھائی سے شکست کے بعد جلاوطن ہوئے اور انہوں نے خانِ قلات سے پناہ مانگی۔ ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے گوادر کا علاقہ، جو تقریباً 2,400 مربع میل پر مشتمل تھا، ایک نئے معاہدے کے تحت سلطانِ عمان کے حوالے کیا گیا۔
اس معاہدے کے مطابق گوادر بنیادی طور پر خانِ قلات سے وابستہ رہنا تھا، جبکہ اس کا انتظام گچکی سرداروں کے پاس رہنا تھا۔ خانِ قلات کو ملنے والی آمدنی کا نصف سلطانِ عمان کو دیا جانا تھا۔ تحریر کے مطابق یہ انتظام اس وقت تک کے لیے تھا جب تک سلطان کو اس پناہ گاہ کی ضرورت رہتی۔
بعد میں عمان کے سلطان دوبارہ اپنے تخت پر واپس آ گئے، لیکن گوادر ان کے قبضے میں ہی رہا۔
کچھ عرصے بعد خانِ قلات کے ورثا نے گوادر کی واپسی کا مطالبہ کیا، لیکن عمان کی حکومت نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ اس معاملے پر اختلاف بڑھتا گیا اور بالآخر برطانوی حکومت نے بھی اس تنازعے میں مداخلت کی۔
برطانوی دور
برطانوی انتظامیہ نے گوادر کے معاملے میں ثالثی کی کوشش کی۔ اس دوران مختلف تاریخی دعوے اور دستاویزات سامنے آئیں، لیکن کسی ایک فریق کے حق میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
تحریر کے مطابق اس دوران گوادر برطانوی کنٹرول میں رہا اور عمان کو گوادر کی آمدنی کا ایک حصہ دیا جاتا رہا۔
پاکستان کے قیام کے بعد گوادر کا معاملہ دوبارہ اہم ہو گیا۔ خانِ قلات نے اپنی ریاست پاکستان کے ساتھ شامل کر دی، جس کے بعد پاکستان کی جانب سے گوادر کے معاملے کو بھی اٹھایا گیا۔
گوادر کی بندرگاہ کی اہمیت
اسی زمانے میں ایک امریکی سروے کمپنی نے گوادر کے ساحل اور بندرگاہ کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی۔ بتایا گیا کہ گوادر کی بندرگاہ بڑے بحری جہازوں کے لیے موزوں ہے اور اس کے ساحلی علاقے میں سمندری وسائل بھی موجود ہیں۔
اس صورتحال نے ایران سمیت دوسرے ممالک کی دلچسپی بھی بڑھا دی۔ ایران کی جانب سے گوادر کو اپنے علاقے میں شامل کرنے اور اسے چابہار کے ساتھ ملانے کی خواہش کا بھی ذکر ملتا ہے۔
ملک فیروز خان نون اور گوادر
1956ء میں ملک فیروز خان نون نے گوادر کے معاملے کو اہمیت دی۔ تحریر کے مطابق انہوں نے تاریخی حقائق اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے کے لیے کوششیں شروع کیں۔
اسی دوران ان کی اہلیہ محترمہ وقارالنساء نون نے بھی برطانیہ میں پاکستان کے مؤقف کے لیے اہم سفارتی اور سیاسی کوششیں کیں۔
انہوں نے تاریخی دستاویزات اور دلائل کی بنیاد پر برطانیہ میں پاکستان کے حق میں لابنگ کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ چونکہ قلات کی ریاست پاکستان کا حصہ بن چکی تھی، اس لیے گوادر پر پاکستان کے حق کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔
تحریر کے مطابق اس معاملے پر تقریباً دو سال تک مذاکرات اور کوششیں جاری رہیں۔
گوادر پاکستان کو مل گیا
ملک فیروز خان نون کے دور میں عمان کے سلطان سعید بن تیمور کے ساتھ مذاکرات ہوئے۔ طویل مذاکرات کے بعد عمان نے گوادر کو پاکستان کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
تحریر کے مطابق گوادر کی منتقلی کے لیے 30 لاکھ پاؤنڈ کی رقم طے ہوئی۔ اس رقم کا بڑا حصہ پرنس کریم آغا خان نے ادا کیا جبکہ باقی رقم پاکستان کی حکومت نے ادا کی۔ بعض روایات میں پوری رقم آغا خان کی جانب سے ادا کیے جانے کا بھی ذکر ملتا ہے۔
آخرکار 8 ستمبر 1958ء کو گوادر پاکستان کا حصہ بن گیا۔
ملک فیروز خان نون نے اپنی خودنوشت "چشم دید" میں اس موقع کو انتہائی خوشی کا لمحہ قرار دیا اور لکھا کہ جب پاکستان کے برطانیہ میں ہائی کمشنر اکرام اللہ نے گوادر کی منتقلی کی دستاویز ان کے حوالے کی تو انہیں بے حد خوشی ہوئی۔
وقارالنساء نون کون تھیں؟
محترمہ وقارالنساء نون، ملک فیروز خان نون کی دوسری اہلیہ تھیں۔ ان کا سابق نام وکٹوریہ ریکھی (Victoria Rekhi) بتایا جاتا ہے۔ وہ آسٹریا میں پیدا ہوئیں اور برطانیہ میں پرورش پائی۔
ملک فیروز خان نون سے ان کی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ برطانیہ میں ہندوستانی حکومت کے ہائی کمشنر تھے۔ بعد میں انہوں نے اسلام قبول کیا اور ملک فیروز خان نون سے شادی کی۔ شادی کے بعد ان کا نام وقارالنساء نون رکھا گیا۔ انہیں محبت سے وکی نون (Wiki Noon) بھی کہا جاتا تھا۔
انہوں نے تحریکِ پاکستان کے دوران خواتین کو منظم کرنے میں حصہ لیا اور برطانوی دور میں سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے گرفتاریوں کا بھی سامنا کیا۔
پاکستان کے لیے سماجی خدمات
قیامِ پاکستان کے بعد وقارالنساء نون نے مہاجرین کی مدد اور فلاحی کاموں میں حصہ لیا۔ وہ APWA کی بانی ارکان میں بھی شمار ہوتی ہیں۔
انہوں نے وقارالنساء گرلز کالج راولپنڈی اور وقارالنساء اسکول ڈھاکہ کے قیام میں بھی کردار ادا کیا اور ریڈ کریسنٹ کے لیے خدمات انجام دیں۔
بعد میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں وہ وزیرِ سیاحت بھی رہیں اور پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے کام کیا۔ پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے قیام اور سیاحت کے فروغ سے متعلق سرگرمیوں کا بھی ان سے تعلق بیان کیا جاتا ہے۔
وکی نون ایجوکیشن فاؤنڈیشن
اپنی بہن کی وفات کے بعد برطانیہ میں ان کے حصے میں آنے والی جائیداد سے انہوں نے وکی نون ایجوکیشن فاؤنڈیشن قائم کی۔
تحریر کے مطابق اس ادارے کے ذریعے مستحق اور باصلاحیت طلبہ کی تعلیم میں مدد کی جاتی ہے، خصوصاً ایسے طلبہ کی جو تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان واپس آ کر ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہوں۔
وفات
محترمہ وقارالنساء نون 16 جنوری 2000ء کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔ ان کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔
تحریر میں انہیں پاکستان سے محبت کرنے والی ایک اہم شخصیت کے طور پر یاد کیا گیا ہے اور گوادر کے پاکستان کا حصہ بننے کی کوششوں میں ان کے کردار کو نمایاں کیا گیا ہے۔
گوادر آج پاکستان کی ایک اہم بندرگاہ اور خطہ ہے، اور اس کی جغرافیائی و معاشی اہمیت کی وجہ سے دنیا بھر میں اس کا ذکر ہوتا ہے۔
وقارالنساء نون کی زندگی میں سیاست، سماجی خدمت، تعلیم، سیاحت اور پاکستان کے لیے مختلف خدمات کا ذکر ملتا ہے۔

Matrizili or Snake Umbrella

umbrella,or snake umbrella ,The botanical name is Trielum Gonianum.Magic is one of the herbal plants that has a lot of medicinal value and is also known as Himalayan trillium or snake umbrella, tan patra, tree flower or birth root which belongs to the family triliaceae.Herbal remedies have been used since ancient times to cure various diseases.These herbal plants were used to prevent and protect against various diseases.Trillium guanyinum It has flowers and is found masculine in the Himalayas.Mainly in China,Nepal ٫Botany.Trillium is mainly composed of the steroid saponin The activity of trilium is due to the presence of various important phytoconstrictors and metabolites This plant is very useful in curing many diseases but is mainly used in the treatment of cancer.Therefore,it is also called an antiseptic herb Because triamcinolone is an endangered species, it should be protected.Because it is a very important herb in the treatment of various diseases.It can be treated with this magical herb.T-guanium is the most important herb in the pharmaceutical system because of the high cost of treatment at this plant.

Friday, June 4, 2021

Honestly,I was not surprised to learn of Malala

Honestly,I was not surprised to learn of Malala's rare views because I know that liberals generally do not mind the various restrictions imposed on life, the problem is only with the restrictions imposed by religion.To violate the principle that is set on universal revelation They will never demand freedom from the rest of the worldly principles, but will impose it on everyone.Give two examples.Have you ever heard from a liberal lawyer that wearing a black coat in summer is ignorance? The judge has to pronounce the verdict by looking at the arguments, witnesses, evidence etc. or by looking at the coat.  Then the black color absorbs the heat, so what kind of stupid clothes do lawyers wear during the day in the summer of Karachi.  You will never hear all this, the reason is that the Bhai Angash law, which is in force, is based on the premise that there should be a black coat, so if you want to advocate,you have to submit to this principle.Wimbledon Open, the world's leading tennis competition The condition is that the color of the athlete's clothing should be white The player cannot enter the field wearing any other color.  Why? Reason? The player has to play a match with his strokes!  She dressed in any color He is so liberal The game doesn't have religion anyway But no liberal, blonde or brown, will ever appear to challenge this principle.I put the third stitch because I also saw the small children of SPS Sadiq Public School in my city Bahawalpur in the early morning in severe winter and severe fog shivering from the cold at the bus stop with bare feet wearing coat and beads below  I have seen and thought in my heart how we are abiding by the English rule and the parents of these children who belong to the elite class do not have the courage to complain to the school administration that Mian Why are our children enemies? And if there was a mosque instead of a school, you can imagine their reaction Yes when it comes to the principle of religion,this liberal class suddenly needs all kinds of freedom From the rest of the rituals to the rules of the game, everywhere they bow their heads There does not hurt their freedom.  Nor does it make sense that any institution or person is imposing its will on us Now, where they cannot openly oppose religion, they adopt the attitude that they cool the hearts by abusing the Maulvis.  As soon as they step into a society where there is freedom to talk nonsense about religion, they immediately throw off their skins and their true colors come to the fore.Malala has introduced the latest item of the same strategy.By Pen-Strange Sen Brother!

In two minutes, the dirt on the teeth, clean toothache and feeling hot and cold is also fine

Here is a great tip for brushing your teeth. People who have very yellow teeth have turned black by eating ice cream or sweets or their teeth are getting damaged due to sugar.  If there is any problem due to which there is a strange type of plaque in their teeth, then the solution of these problems is being listed in this article, so it is a paste. You have to apply it in the morning with the help of a brush.  The way to make this paste is that first you have to take an inch piece of ginger and peel it and you have to grate it. Now put it aside.  You can also make a paste by adding it. Now take a bowl and squeeze half a lemon in it. First add ginger paste in it. Add this paste equal to about a teaspoon.
 Put two pinches of salt on top of it and add the equivalent of one tablespoon of the toothpaste you use every day. Now mix all these ingredients. After mixing, it is in the form of a paste.  It will be ready. You have to brush with it in the morning. Insha'Allah, all your dental problems will be removed. In the first use, you will see the difference.  Inshallah, it will be on the side because the salt that is added in it and the most valuable thing is ginger paste will save you from any kind of dental disease. The custom of eating out has become common.  Looks curious about food. Food streets have been set up everywhere. In which a variety of food is available. Going out to eat every weekend has become the most popular pastime.
 Mouth watering when you see food outside, but most people are unaware of how it is prepared. When we prepare our own food, we make sure that everything used in it is clean.  It should be clean and pure. It should not contain any harmful health items. When we eat this thing outside, it looks good but there is no guarantee that it will be clean. This food prepared in Food Street and restaurants.  They are very harmful to health. They cause harm to the human body. The harms caused by these foods are listed below. Contaminated salt contained in unhealthy foods can cause blood pressure problems.  The substandard oil used for its preparation is harmful to the heart and veins. People usually suffer from food poisoning due to eating substandard and stale food. May Allah be our supporter and helper. Amen.

Sunday, December 8, 2019

فریژین گائے

ایک فریژین گاۓ کے لیے بیٹھنے کے لیے 4 فٹ چھوڑ 6.5 لمبا اور 4.5 اونچا کعوبکل کا جگہ درکار ہوتا ہے جو فرش سے 6 انچ اونچا ہو. اس طرح کعوبکل سے کھرلی تک جگہ 13.5 فٹ ہونا چاہیے. یعنی چھت والا  جگہ ٹوٹل 4 ضرب 20 فٹ ہو اگر 2 جانور کو آمنے سامنے رکھنا ہوتو کل 40 فٹ چوڑا جگہ جب چارہ ڈالنے کے مزید 10 تا 12 فٹ جگہ ہو. اس طرح چھت کی اونچائی سائیڈ سے گرم علاقوں میں 15 فٹ جبکہ سرد علاقوں میں 12 فٹ اور گرم علاقہ میں درمیان میں 18 فٹ سرد علاقہ میں 15 فٹ جبکہ بلکل پیچ یا سنٹر میں گرم علاقے میں  20 فٹ اور سرد جگہ کے لیے 16 فٹ اونچا ہو. کھرلی یا جہاں چارہ ڈالا جاۓ فرش سے 7 انچ اونچا ہو گاۓ اونچی چگہ پر کھانا پسند کرتی ہے . کھرلی کا جگہ جہاں سے شروع ہو اس میں 2.5 ڈائیا کا پائپ 7 انچ اندر کی طرف سے نکال کر 4.5 فٹ پر اونچا فیٹ کیا جاۓ تاکہ جانور چارہ کھاتے ہوۓ باہر نہ نکلے اور آرام سے چارہ کھا سکے اگر بچڑے رکھنا مقصود ہو تو فرش سے 3 فٹ میں دوسرا چھوٹے ڈائیا کا پائپ وائیڈ کردے. 100 جانوروں کے لیے چھت والا جگہ 200 فٹ لمبا (50 جانور طرف 50 جانور دوسرے طرف) ضرب 52 فٹ چوڑا درکار ہوتی ہے.  جس کو 4 برابر حصوں میں تقسم کرکے جمع + شکل میں 4 دروازے بنانا ہے. اس وجہ سے 200 فٹ لمبائی کے ساتھ 8 فٹ کا باہر جانے کا راستہ بھی بنانا ہے یعنی ٹوٹل لمبائی 208 فٹ ہوجاۓگی. جانوروں باہر کھلا چھوڑنے کے لیے شیڈ کے باہر سائیڈ والے جگہ میں دونوں اطراف سے 200 فٹ ضرب 30 فٹ کھولا جگہ چھوڑا جاتا ہے اور اس میں خاکہ ڈال کر جانور کو صبح شام 2، 2 گھنٹوں چھوڑا جاتا ہے جبکہ اس دوران اندر شیڈ کی صفائی اور جانوروں کو خوراک ڈالا جاتا ہے.
اندر چھت والا میں پکی فرش ڈالا کر اس وقت سریا سے چاروں اطراف سے 6، 6 انچ کے گہرے لکیرے بناو تاکہ جانور فرش پر سیلپ ہوکر نہ گرے. شیڈ کے چاروں کونے پر پانی کا 2.5 فٹ اونچا اور 3 فٹ چوڑا جبکہ 9 فٹ لمبا حوض بناو جس کے اندر ماربل یا سنگ مرمر لگانا ضروراندر چھت والا میں پکی فرش ڈالا کر اس وقت سریا سے چاروں اطراف سے 6، 6 انچ کے گہرے لکیرے بناو تاکہ جانور فرش پر سیلپ ہوکر نہ گرے. شیڈ کے چاروں کونے پر پانی کا 2.5 فٹ اونچا اور 3 فٹ چوڑا جبکہ 9 فٹ لمبا حوض بناو جس کے اندر ماربل یا سنگ مرمر لگانا ضروری ہے.
اگر شیڈ کے باہر سائیڈ والوں جگہ پر عام کریانہ کے دکانوں کے نصف برابر شاٹر لگاۓ جاۓ ( چھت سے 4 فٹ نیچے زمیں سے 3 فٹ اونچا اور دو شاٹر کی درمیان 5 فٹ فاصلہ ہو) تو شدید سردی اور بارشیوں میں جانوروں کو بچایا جاسکتا ہے.

پٹھان کا بیلنس

‏ایک  پھٹان نے ایک ہزار کا بیلنس غلطی سے ایک نامعلوم پنجابی کے نمبر پر بھیج دیا ،احساس ہونے پر واپس منگوانے کی ہر کوشش جب ناکام ہوگئی تو پھٹان صاحب نے اُسی نمبر پر ایک میسج بھیجا۔
آپ کو تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت پر مبارکباد دی جاتی ھے۔
‏آپ نے ایک ہزار کا بیلنس قبول کرکے اپنی ممبر شپ کی توثیق کر دی ھے اور آپ کیلئے یہ خبر یقینی طور پر خوشی کا باعث ہوگی کہ آپ کا انتخاب تنظیم کے فدائی وِنگ میں ھو گیا ھے۔
آپ کو ٹریننگ کیلئے جلد ہی آپ کے گھر سے اُٹھا لیا جائے گا۔
‏تھوڑی دیر بعد ہی پھٹان کو دو ہزار کا بیلنس اس میسج کے ساتھ وصول ہوا کہ
بھائی جان، موبائل چارجر میں لگا ہونے کی وجہ سے کال وصول نہیں کر سکا تھا ،
بہرحال دو ہزار کا بیلنس وصول کریں نیز مجھے معاف کردیں
میری نہ صرف نظر کمزور ھے بلکہ ایک ٹانگ پولیو کی وجہ سے ناکارہ اور ایک ہاتھ پر فالج بھی ھے

گیس کی بو پھیلی ہوئی محسوس کی

ایک جوڑا ریسٹورنٹ سے نِصف شب گھر پُہنچا تو گیس کی بُو پھیلی ھوئی محسوس کی ، میاں باورچی خانے میں گیا جہاں زیادہ بُو کا احساس ھوا ، لاشعوری طور پر اُس کا ھاتھ لائٹ کے بٹن پر گیا جِسے دباتے ھی ایک زوردار دھماکہ ھو گیا ، وہ شخص موقع پر ھی جاں بحق ھو گیا جبکہ اسپتال میں زیرِ علاج اُسکی بیوی کی حالت اِنتہائی تشویشناک بتائی جاتی ھے ، گھریلو فرنیچر اور دیگر اشیاء دو سو میٹر تک بکھری پڑی تھیں جو یہ بتا رھی تھیں کہ دھماکہ کسی بم جیسا طاقتور تھااِس المناک حادثے سے ھمیں یہ سبق مِلتا ھے کہ جب گیس کی بُو کا احساس ھو فورا لیکن آرام سے کھڑکیاں دروازے کھول دیں ، ماچس کی تِیلی یا لائٹر مطلق نہ جلائیں اور نہ ایگزاسٹ فین چلائیں ، ریفریجریٹر کا دروازہ بھی تب تک ھرگز نہ کھولیں جب تک گیس کی بُو غائب نہ ھو جائےاز راہِ کرم اِن ھدایات کو صرف اپنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ دوسروں کو بھی آگاہ کریں ، اللہ تعالیٰ آپکو اِسکا اجر عطاء کرے گا ، اِن شاءاللہ.
صرف آپ ہی پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں بلکہ اوروں کو بھی شریک کریں, یہ صدقہ جاریہ ہوگا۔

جانوروں کے پالنے کا اصول

5 اصول ہیں اگر آپ ان پے  عمل کر لیں اور جانور کو یہ حقوق دے دیں تو میں آپ سے چیلنج کرتا ہوں کے کے آپ کو ڈیری کے کاروبار میں کبھی نقصان نہیں ہو گا

 میں سفائر ڈیری پے جب تھا تو اس فارم کے 2 حصے تھے فارم 1 اور فارم 2  لگ بھگ 5000 ہزار جانورتھے ۔
میری زمہ داری  فارم 2 پے تھی فارم 2 پے سارے ہائی ملکنگ جانور تھے جو کے 50 لیٹر سے اپر تک جاتے تھے میرے ذمے میں جو کام تھے ان میں نیچے دیے  گے 5 اصول ان پے عمل کروانا تھے اگر دودھ کی کمی ہوتی تو میں جواب دہ تھا ساڑو اور لنگڑا پن کا میں جواب دہ تھا TMR میں اگر خرابی ہوتی تو مجھ سے پوچھا جاتا کے یہ کیوں آپ نے  ڈلوایا میں صرف علاج نہیں کرتا تھا باقی ہر چیز کو دیکھنا میری ذمہ داری تھی  اس لیے میں سارا دن جانوروں کے اندر گھومتا رہتا ایک ایک چیز کو دیکھتا ہر چھوٹی چیز پے بھی غور کرتا ڈیلی گوبر کو ہاتھ سے چیک کرتا۔ گوبر سے  آپ اپنے فارم  نیوٹریشن   کو کراس چیک  کر سکتے ہیں ۔بتانے کا مقصد یہ ہے کے جو باتیں آپ سے شیر کرنے جا رہا ہوں یہ میرا ذاتی  تجربہ ہے

پہلا اصول
1 .Freedom from Hunger and Thirst
جانور کا سب سے پہلا حق کھلا پانی اور 24 گھنٹے خوراک کا سامنے ہونا ہے ہم 5 دفع خوراک ڈالتے تھے رات کو ایک بجے بھی اگر خوراک ختم ہو گئی ہو تو ہم اسی وقت ڈالتے تھے اور میں رات کو بھی چکر مارتا تھا بہت سے جانور رات کو بھی کھا رہے ہوتے تھے کوئی وقت ایسا نہیں دیکھا کے  فیڈ ٹیبل مکمل خالی ہو ۔ کچھ جانور رات کو زیادہ کھاتیں ہیں اور اگر رات کو سارے جانور لیٹے ہوں اور کچھ کھا رہے ہوں تو یہ بھی ممکن ہے کے وہ  جانور کمزور ہے بیمار ہے وہ  اس وقت کا انتظار کرتے ہیں  جب ان کو پتہ ہو کے اب کوئی جانور مارے گا نہیں کوئی جگہہ سے ہٹاے گا نہیں۔ 3-4 سوے والے جانور پہلے سوے والی گاۓ کو ساتھ کھانے نہیں دیتی تھی اسی لیے ہمیشہ پہلا سوے والے جانوروں کا الگ گروپ بنانا چاہیے۔ میں اکثر سافٹ ویئر پے جب دیکھتا کے آج کس جانور نے دودھ کم دیا ہے اکثر ایسا ہوتا ایک دن پہلے جانور نے 50 لیٹر دودھ دیا اگلے دن اس نے 20 لیٹر جب جانور کو  دیکھا تو کوئی مسلہ نہیں بیمار بھی نہیں ہے وجہہ یہ کے غلطی سے چوای کرنے کے وو جانور اپنے گروپ کی بجاۓ کسی اور بڑی گاۓ والے گروپ میں چلی گئی اور وہاں اس کو کھانے نہیں دیا گیا جب اس کو واپس اپنے گروپ میں چھوڑا تو اس کا دودھ ٹھیک ہو گیا وجہہ یہی ہے کے جب کوئی بچا بڑے لوگوں کی محفل میں بیٹھ جاۓ تو وہ ڈر کے مارے سہمہ رہتا ہے اس لیے یہ ضروری ہے کے خوراک اور پانی کا ہر وقت موجود ہونا جانور کے لیے بہت ضروری ہے اس کا جب دل کرے وہ  کھا لے اور پی لے
پانی کی چھوٹی سی مثال دیتا ہوں سفائر ڈیری پے اگر 2 دن پانی کی کھرلی صاف نا ہو تو تیسرے دن ساڑو کےکیسز آنا شروع  ہو جاتے تھے تھے

دوسرا اصول

 2 .Freedom from Discomfort
جانور کو آرام دہ ماحول دینا
اگر آپ چاھتے ہیں کے آپ کا جانور دودھ ٹھیک دے بیمار نا ہو تو اس اصول پے خاص خیال رکھیں۔ جانور اگر 8 گھنٹے آرام نہیں کرتا  سکون سے جگالی نہیں کرتا تو اس کا سیدھا اثر آپ کو دودھ کی کمی سارو اور دیگر بیماریوں کی صورت میں ملے گا
آرام دہ ماحول میں سب سے پہلی چیز شیڈ کا درجہ حرارّت ہے شیڈ بند نا ہو ہوا کا گزر اچھی طرح ہو ۔15-30 ڈگری تک اندرونی درجہ حرات رہے تو جانوروں کو کوئی مسلہ نہیں ۔اگر گرمی ہے تو آپ کے جانور کھڑے رهتے ہیں سکوں سے بیٹھے گے نہیں جگالی نہیں کرتے میدہ خراب ہونا شروع ہو جاتا ہے لنگڑا پن کے کیسز انے شروع ہو جاتے ہیں سارو کے چانس بڑھ جاتے ہیں جانور کم وقت لیٹتا ہے دوپہر 2-3 بجی تک ہماری ریسٹ ہوتی تھی ریسٹ کٹ بعد جیسے he شیڈوں کے اندر جاتے تھے تو سارے جانور فیڈ ٹیبل پے آ کے کھڑے ہوتے تھے دور سے لگ رہا ہوتا تھا کے 600 کا 600 جانور کھا رہا ہے لیکن نزدیق آ کے پتہ لگتا کے وہ سرف کھڑے ہیں کیو کے فیڈ ٹیبل والی جگہہ ٹھنڈی ہوتی تھی اس جگہہ کی نسبت جہاں وہ آرام کرتے تھے جن کو ہم cubicles کہتے ہیں
 بیڈنگ والی جگہہ جہاں پے جانور جا کے آرام کرتے ہیں یا بیٹھتے ہیں اس جگہہ کا آرام دہ ہونا بہت ضروری ہم ہر ہفتے ریت ڈالتے تھے ایک ایک فٹ بیٹھنے والی جگہہ پر یقین جانیے جس دن ہم نئی ریت ڈالتے تھے اگلے دن  آدھا سے ایک کلو فی جانور دودھ بڑھا جاتا تھا اگلے کچھ دن سارو بہت کم ہو جاتا تھا وجہہ یہی کے جانور ریت کو پسند کرتا ہے دنیا میں سب سے اچھی بڈنگ ریت ہے میں نے جتنے بھی فارم وزٹ کے ایک ایک فٹ کے گڑھے بنے ہوتے ہیں  اندر گوبر پیشاب کی وجہہ سے کیتچر بنا ہوتا ہے جانوروں کے گھٹنے سوجے ہووے ہوتے ہیں اس جانور نے کیا دودھ دینا ہے جس کو آرام کے لیے نیچے سخت جگہہ ملے۔ یہ میرا تجربہ ہے جانور نرم اور صاف جگہہ کو پسند کرتا ہے اور خوشی سے مستیاں بھی کرتا ہے ۔  اس لیے میرے بھائیوں آرام دہ جگہہ اور ماحول ضروری ہے اس کو چیک کرنا ہو تو دیکھیں کے آپ نے تازہ خوراک ڈالی گھنٹے بعد جانوروں ko دیکھیں کیا لیٹ کے جگالی کر رہے ہیں اس کا مطلب ہے کے جانور سکوں میں ہیں اگر آدھے لیٹے ادھے کھڑے ہیں مطلب آپ کی جگہہ صاف نہیں آرام دہ نہیں اگرسارے کھڑے ہیں تو پھرکوئی سیریس مسلہ ہے اس کو حل کریں فورن
کارپوریٹ میگا ڈیری فارم میں اپس میں بڑا مقابلہ چلتا رہتا ہے دودھ کی ایوریج کا اور دودھ اس وقت جانور دیتا ہے جب وہ  زیادہ کھاے سب زیدہ ہمارا فوکس ہوتا تھا کے کسی طریقے سے جانور کو کھلاتے رہیں یا جانورکھاتا رہے اسی مقابلے میں ایک دفع میرے فارم مینیجر حسام منیر جو کے مصری تھے پاکستان میں  سے کامیاب فارم مینیجر ہیں  انہوں مجھے کہا کے جب بھی خوراک کی گاڑی اے شیڈ میں آپ نے سب جانوروں کو اٹھا دینا ہے تا کے وہ فیڈ ٹیبل پے آ کے خوراک کھائیں میں نے کہا سر یہ چیز جانوروں کو ڈسٹرب کرے گئی اور دودھ کم ہو گا انہوں نے کہا نہیں تم نے لیبر سے کروانا ہے میں نے کہاٹھیک ہے اب 1200 گاۓ کھڑی تھی 2 شیڈ میں جب سارا دن یہی کام لیبر ٹھڈے مار مار کے اٹھاتی رہی ایک جانور جو سکوں سے جگالی کر رہا ہو وہ کیسے اٹھے گا نتیجہ یہ نکلا کے اگلے دن دودھ زیادہ ہونےکی بجاے کم ہو گیا وجہہ یہ تھی
ایک جانورجو آرام سے لیٹا ہو جگالی کر رہا ہو اس کو کبھی تنگ نا کریں نا اٹھیں جانور آپ کے ٹھڈے سے اٹھ تو جاۓگا لیکن پھر تھوڑی دیر کے بعد وہ بیٹھ جاۓ گا نقصان ye ہوا کے اس اٹھنے اور بیٹھنے میں جانور کی  طاقت  ضایع ہوئی جانورڈسٹرب ہوا اور دودھ کم ہو گیا اس لیے تیل تمباکو جو کچھ بھی دینا ہو اس وقت کبھی بھی نا دیں جب جانور آرام کر رہے ہوں جگالی کر رہےہوں

تیسرا اصول

 Freedom from Pain, Injury or Disease
درد بیماری چوٹ سے آزادی
درد ایسی چیز hay جس کو ہوتا ہے وہی بتا سکتا ہے ہم بول کے بتا دیں گے جانور بیچارہ دودھ کی کمی کی صورت میں بتا دے گا روزانہ میں کم دودھ والی گاۓ کے nنمبر نکل کر لاتا تھا اور 70% لنگڑے پن والی ہوتی تھی جو درد ki وجہہ سے نا کھاتی تھی نا پیتی  تھی اور دودھ 50 لیٹر سے 10 لیٹر تک آجاتا تھا انکا باقی 30 فیصد بخار ساڑو والی ہوتی تھی ۔ اس لیے جانور کو بیماری سے بچانا ضروری ہے اکثر رسی اور لوہے کی چیزیں زخم کر دیتی ہیں جو نظر نہیں آتا لیکن دودھ کم کر جاتے ہیں آہستہ آہستہ ۔

چوتھا اصول

4. Freedom to Express Normal Behavior
آزادی جذبات

یہ اصول بھی بہت اہم ہے اس کا مطلب ہے جانوروں کو رہنے کے لیے کھلی جگہہ دیں رش نا بنائیں پنڈی  میں ایک شخص کا فارم تھا کہنہ کھنہ پل والی بارہ کالونی میں یہاں پر لوگوں نے گھروں کے اندر کمروں میں جانور بندھے ہوۓ ہوتے ہیں ۔اس بندے نے فارم کو کھنہ پل سے سنگجانی ایریا میں متقل کر دیا میں اس کےجانوروں کے دودھ کا ریکارڈ چیک کر رہا تھا کاپی میں  دودھ تھا کسی کا 8 لٹر کسی کا 10 لیٹر اچانک سے دودھ 14 کلو 15 کلو پے چلا گیا مینے نے پوچھا بھائی جان پہلے 15 دن دودھ کم تھا اچانک دودھ اتنا کیسے بڑھ گیا اس نے کہا پہلے 15 دن کھنہ پل میں جانور رکھے جہاں جگہہ کم اور جانور زیادہ تھے جانور اکثر بیمار رهتے تھے (اگر شیڈ میں جانور زیادہ ہوں گے تو امونیا گیس بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے جو جانور کو بیمار کرتی ہے ) جب سے میں نے اس جگہہ شفٹ کیے  جانور دودھ بڑھا گے وجہہ یہ  تھی
پہلی جگہہ پر جانور بندھے تھے نئی جگہہ پر جانوروں کو کھلا چھوڑ دیا گیا
پانی کھلا تھا شیڈ ہوا دار اور کافی بڑا تھا جانور بڑی آزادی کےساتھ گھوم پھر رہے تھے

خوراک کو تبدیل نہیں کیا صرف ماحول کو تبدیل کیا اور اتنا فرق آگیا

پانچواں اصول

 Freedom from Fear and Distress
ڈر اور خوف سے آزادی
ہمارے فارم پے لیبر  کو سختی سے منع  کیا گیا تھا کے جانور کو مارنا نہیں خاص کر کے چوئی کے وقت لے کے جاتے ہوۓ کیوں کے چوائ کے وقت ذرا سا خوف بھی جانور کے oxytocin  ہارمون کے اخراج کو روک دیتا ہے یا کم کر دیتا ہے جس سےجانور دودھ کم کر دیتا تھا فورن اور سارو کا مسلہ بھی آسکتا ہے بعد میں
آپ یقین نہیں کریں گے گے بجلی کی کرک اور بادلوں کے گرجنے کی آواز  سے ہمارے جانور اگلی چوئی میں دودھ کم کر دیتے تھے۔ ہمارے فارم پر کچھ ارسا ویلڈنگ اور گرینڈنگ کا کام ہوتا رہا اب جس شیڈ میں  کام ہوتا رہا وہاں اتنا شور رہتا تھا جس کی وجہہ سے اتنے دن جانور پوری تارہ دودھ پے نہیں اے
اس لیے شور اور مار پیٹ سے جانوروں کو بچا کے رکھیں شیڈ ایسی جگہہ بناے جہاں آس پاس کوئی فیکٹری ورکشاپ نا ہو
اس ویڈیو کو غور سے دیکھیں جانور بہت زیادہ آرام دہ ماحول میں ہیں جس کی وجھہ سے سارے جانور بیٹھ کر جگالی کر رہیں ہیں ہر چیز پرفیکٹ ہے

میرے بھائیوں یہ وہ باتیں ہیں جن کے پیچھے سالوں  محنت اور لگن شامل ہے میرا مقصد اس ڈیری فارمنگ کو بلندی پر لے جانا اور میری خوائش ہے کے وہ  دن آیئں جب لوگ ڈیری  کے کاروبار میں فخرمحسوس کریں اگر آپ میرا ساتھ دیں تو ہم سب مل کے اس کو اگے لے کے چلتےہیں

میں اس تحریر کے ذریعے 3 بندوں کا  خاص طور پر شکر گزآر ہوں جن سے میں نے بہت کچھ سیکھا جنہوں نے مجھے انگلی پکڑ کر سکھایا میرے استاد محترم پروفیسر سید حسن رضا بخاری صاھب   ڈاکٹر  اسد گل صاھب  نیوٹریشن مینیجر سفائر ڈیری اور ڈاکٹر نعمان راجہ سینئر ویٹرنری ڈاکٹر سفائر ڈیری

Thursday, December 5, 2019

Murghio Ke breeding

اسلام وعلیکم دوستوں 
بریڈنگ کے حوالے سے رہنمائی 
 کچھ لوگ پریشان ہیں کہ جب وہ مرغی بٹھاتے ہیں تو ٣ یا ٤ بچے نکلتے ہیں باقی سارے انڈے خراب ہو جاتے ہیں ان کیلئے رہنمائی 
١:- سب سے پہلے اس چیز کا خیال رکھا جایے کو جو جوڑا لگانا ہے اس نر اور مادی کا دم کا کوئی پر ٹوٹا ہوا نہ ہو کیوں کہ اگر مادی کا پر ٹوٹا ہو گا تو وہ نر کو تکلیف دے گا اور زخم کر سکتا اور اگر نر کا ہوا تو وہ مادی کو اور اس وجہ سے مرغا صحیح طریقے سے کراس نہیں کر سکے گا اور انڈے خالی رہیں گے اس لیے جوڑا لگاتے وقت وہ ٹوٹے ہے پر نکل دیں
٢:- کچھ لوگ جس جگہ مادی انڈے دیتی ہے وہاں سے اٹھاتے نہیں کہ جب سارے انڈے دے گی تو اسی جگہ خود ہی انڈوں پر بیٹھ جایے گی لیکن یہ طریقہ بھی غلط ہے کیوں کہ جب مادی انڈا دینے کیلئے بیٹھتی ہے تو پہلے پڑے انڈوں کو بھی ہیٹ ملتی ہے اور جب اٹھتی ہے تو ان انڈوں کو ہوا لگ جاتی ہے جس کی وجہ سے انڈے کی چھلکے کے اندر والا باریک پردہ خشک ہو جاتا ہے اور انڈے میں بچہ نہیں بنتا 
٣:- کچھ مادیوں کی دم میں گنڈہ جوڑ پر کیل ہوتا ہے اگر اس میں چربی بن جایے تو کراس کے دوران مرغی اپنی دم اٹھاتی نہیں اور مرغے کا پانی زمین پر گر جاتا ہے اور انڈے فرٹایل نہیں ہوتے اس لیے اس کیل کو کاٹ کر اچھی طرح نچوڑ کے چربی نکال دیں اور صاف کر کے ہلدی اور سرسوں کا تیل مکس کر کے صبح شام لگائیں انشااللہ زخم ٹھیک ہو جایے گا پھر پورا کراس ہو گا 
٤:- کچھ لوگ مرغی کو انڈوں پر بیٹھا کر یہ سوچتے ہیں کہ جب بھوک اور پیاس ہو گی تو خود ہی اٹھ جایے گی یہ سوچ اور طریقہ بلکل غلط ہے کیوں کہ اگر مادی انڈوں پر بیٹھ مر دے گی تو جس جس انڈے پر پانی لگے گا ان میں بچے نہیں بنیں گے روز شام کو مرغی کو اٹھا کے دانا پانی دیں کھا پی کے بیٹھ مارنے تک پھرنے دیں اس کے بعد اسے دوبارہ انڈوں پر بیٹھا دیں 
٥:- گرمیوں میں انڈے ہمیشہ فریج کے سبزی والے خانے میں نیچے کپڑا رکھ کر انڈے رکھیں اور اوپر ایک اور کپڑا رکھ دیں مادی بٹھانے سے ایک گھنٹہ پہلے فریج سے باہر نکال کے رکھ دیں بھوسے یا پھر ٣ نمبر لکڑی کے برے پر مادی اس طرح بیٹھایں کہ مادی کے نیچے سارے انڈے چھپ جائیں اور کوئی انڈا نظر نہ آیے 
٦:- ہمیشہ بریڈر جوڑے کو مکس دانا دیں کیوں کہ اس موسم میں ہر جانور کے منہ کا ذائقہ خراب ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ ایک ہی خوراک نہیں کھاتے اور کم خوراک کھانے کی وجہ سے جانور کمزور ہو جاتا جس کی وجہ سے بچے نہیں نکلتے اگر ہو سکے تو مرغا کو روز ١٠ دانے بادام کے صبح کو بھگو دیں اور شام کو چھلکا اتار کے کھلا دیں 
اگر آپ ہماری پوسٹ پر عمل کریں گے تو انشاللّہ آپ کی بہت اچھی بریڈ ہو گی 
نوٹ:- یہ پوسٹ اپنے دوستوں کو بھی ٹیگ کریں اور سارے گروپس میں بھی شئیر کریں تا کہ سب دوستوں کا بھلا ہو جایے 
باقی ہمیں دعاوں میں ضرور یاد رکھئے گا.
ملک نعمان ناصر
                                                   

جانوروں کی کھرلی کی معلومات

             اسلام وعلیکم
بھت دوست جانوروں کی کھرلی کا سائز پوچھتے ہیں
اج سنگل ایک طرف جانوروں والی کھرلی کا سائز حاضر ھے
اس سائیز پر تقریباً ھر قد کا جانور اسانی سے چارہ کھا سکتا ہے
🐃🐄🐂🐃🐄🐂🐃🐄🐂🐃🐄🐂🐃
زمین سے اونچائی۔۔30 انچ
چوڑائی اندر اندر۔۔2 فٹ
گہرائی۔۔1 فٹ
نوٹ۔۔لمبائی اپنے جانوروں کے حساب سے رکھیں
ایک جانور کیلۓ 5 فٹ جگہ چاھۓ